کیا یقین اور کیا گماں چُپ رہ
شام کا وقت ہے میاں۔۔چپ رہ
ہو گیا قصۂ وجود تمام
ہے اب آغازِ داستاں۔۔چُپ رہ
میں تو پہلے ہی جا چکا ہوں کہیں
تُو بھی جاناں نہیں یہاں۔۔چُپ رہ
تُو جہاں تھا جہاں جہاں تھا کبھی
تُو بھی اب تو نہیں وہاں۔۔چپ رہ
ذکر چھیڑا خدا کا پھر تو نے
یاں ہے انساں بھی رائگاں۔۔چُپ رہ
سارا سودا نکال دے سر سے
اب نہیں کوئی آستاں۔۔چُپ رہ
اہرمن ہو۔۔خدا ہو۔۔یا آدم
ہو چکا سب کا امتحاں۔۔چُپ رہ
درمیانی ہی اب سبھی کچھ ہے
تُو نہیں اپنے درمیاں۔۔چُپ رہ
اب کوئی بات تیری بات نہیں
نہیں تیری۔۔تری زباں۔۔چُپ رہ
ہے یہاں ذکر حالِ موجوداں
تُو ہے اب از گزشتگاں۔۔چُپ رہ
ہجر کی جاں کنی تمام ہوئی
دل ہوا جونؔ بے اماں چُپ رہ
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.