سیاسی لیڈر کے نام
سالہا سال یہ بے آسرا جکڑے ہوئے ہاتھ
رات کے سخت و سیہ سینے میں پیوست رہے
جس طرح تنکا سمندر سے ہو سر گرمِ ستیز
جس طرح تیتری کہسار پہ یلغار کرے
اور اب رات کے سنگین و سیہ سینے میں
اتنے گھاو ہیں کہ جس سمت نظر جاتی ہے
جابجا نور نے اک جال سا بن رکھا ہے
دور سے صبح کی دھڑکن کی صدا آتی ہے
تیرا سرمایہ، تری آس یہی ہاتھ تو ہیں
اور کچھ بھی تو نہیں پاس، یہی ہاتھ تو ہیں
تجھ کو منظور نہیں غلبہء ظلمت، لیکن
تجھ کو منظور ہے یہ ہاتھ قلم ہو جائیں
اور مشرق کی کمیں گہ میں دھڑکتا ہوا دن
رات کی آہنی میت کے تلے دب جائے!
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.