ہم سادہ ہی ایسے تھے، کی یوں ہی پذیرائی
جس بار خزاں آئی، سمجھے کہ بہار آئی
آشوبِ نظر سے کی ہم نے چمن آرائی
جو شے بھی نظر آئی، گل رنگ نظر آئی
امیدِ تلطف میں رنجیدہ رہے دونوں
تو اور تری محفل، میں اور مری تنہائی
یک جان نہ ہو سکیے، انجان نہ بن سکیے
یوں ٹوٹ گئی دل میں شمشیرِ شناسائی
اس تن کی طرف دیکھو جو قتل گہِ دل ہے
کیا رکھا ہے مقتل میں ، اے چشمِ تماشائی
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.