سہل یوں راہِ زندگی کی ہے
ہر قدم ہم نے عاشقی کی ہے
ہم نے دل میں سجا لیے گلشن
جب بہاروں نے بے رُخی کی ہے
زہر سے دھو لیے ہیں ہونٹ اپنے
لطفِ ساقی نے جب کمی کی ہے
تیرے کوچے میں بادشاہی کی
جب سے نکلے گداگری کی ہے
بس وہی سرخرو ہوا جس نے
بحرِ خوں میں شناوری کی ہے
جو گزرتے تھے داغ پر صدمے
اب وہی کیفیت سبھی کی ہے
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.