Urdu Poetry Collection

Tuesday, December 31, 2019

پھر پھُرَیرے بن کے میرے تن بدن کی دھجّیاں

درِ اُمید کے دریوزہ گر

پھر پھُرَیرے بن کے میرے تن بدن کی دھجّیاں
شہر کے دیوار و در کو رنگ پہنانے لگیں
پھر کف آلودہ زبانیں مدح و ذَم کی قمچیاں
میرے ذہن و گوش کے زخموں پہ برسانے لگیں

پھر نکل آئے ہوَسناکوں کے رقصاں طائفے
درد مندِ عشق پر ٹھٹھّے لگانے کے لیے
پھر دُہل کرنے لگے تشہیرِ اخلاص و وفا
کشتۂ صدق و صفا کا دل جلانے کے لیے

ہم کہ ہیں کب سے درِ اُمّید کے دریوزہ گر
یہ گھڑی گُزری تو پھر دستِ طلب پھیلائیں گے
کوچہ و بازار سے پھر چُن کے ریزہ ریزہ خواب
ہم یونہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے


💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by following us via email.

No comments:

Post a Comment

Please don't enter any Spam link in the comment box.