آرزو
مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں مگر آرزو ہے کہ جب قضا
مجھے بزمِ دہر سے لے چلے
تو پھر ایک بار یہ اذن دے
کہ لحد سے لوٹ کے آسکوں
ترے در پہ آ کے صدا کروں
تجھے غمگسار کی ہو طلب تو ترے حضور میں آ رہوں
یہ نہ ہو تو سوئے رہ عدم میں پھر ایک بار روانہ ہوں
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.