یہ فصل امیدوں کی ہمدم
سب کاٹ دو بسمل پودوں کو
بے آب سسکتے مت چھوڑو
سب نوچ لو
بیکل پھولوں کو
شاخوں پہ بلکتے مت چھوڑو
یہ فصل امیدوں کی ہمدم
اس بار بھی غارت جائے گی
سب محنت، صبحوں شاموں کی
اب کے بھی اکارت جائے گی
کھیتی کے کونوں، کھدروں میں
پھر اپنے لہو کی کھاد بھرو
پھر مٹی سینچو اشکوں سے
پھر اگلی رت کی فکر کرو
پھر اگلی رت کی فکر کرو
جب پھر اک بار اُجڑنا ہے
اک فصل پکی تو بھر پایا
جب تک تو یہی کچھ کرنا ہے
منٹگمری جیل
مارچ 30، 1955
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.