Urdu Poetry Collection

Tuesday, December 24, 2019

صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی

غزل

صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی
کیا خبر آج خراماں سرِ‌گلزار ہے کون

شام گلنار ہوئی جاتی ہے دیکھو تو سہی
یہ جو نکلا ہے لیے مشعلِ رخسار، ہے کون

رات مہکی ہوئی آتی ہے کہیں سے پوچھو
آج بکھرائے ہوئے زلفِ طرحدار ہے کون

پھر درِ دل پہ کوئی دینے لگا ہے دستک
جانیے پھر دلِ وحشی کا طلبگار ہے کون

💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by following us via email.

No comments:

Post a Comment

Please don't enter any Spam link in the comment box.