اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئے
جو اپنے گھر سے آئے تھے وہ اپنے گھر گئے
اب کون زخم و زہر سے رکھے گا سلسلے
جینے کی اب ہوس ہے ہمیں ہم تو مر گئے
اب کیا کہوں کہ سارا محلہ ہے شرم سار
میں ہوں عذاب میں کہ میرے زخم بھر گئے
ہم نے بھی زندگی کو تماشہ بنا دیا
اس سے گزر گئے کبھی خود سے گزر گئے
تھا رٙن بھی زندگی کا عجب طرفہ ماجرا
اٹھے تو پاؤں مگر جون سر گئے
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.