کون سے شوق کس ہوس کا نہیں
دل مری جان تیرے بس کا نہیں
راہ تم کارواں کی لو کہ مجھے
شوق کچھ نغمۂ جرس کا نہیں
ہاں مرا وہ معاملہ ہے کہ اب
کام یاران نکتہ رس کا نہیں
ہم کہاں سے چلے ہیں اور کہاں
کوئی اندازہ پیش و پس کا نہیں
ہو گئی اس گلے میں عمر تمام
پاس شعلے کو خار و خس کا نہیں
مجھ کو خود سے جدا نہ ہونے دو
بات یہ ہے میں اپنے بس کا نہیں
کیا لڑائی بھلا کہ ہم میں سے
کوئی بھی سینکڑوں برس کا نہیں
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
دل مری جان تیرے بس کا نہیں
راہ تم کارواں کی لو کہ مجھے
شوق کچھ نغمۂ جرس کا نہیں
ہاں مرا وہ معاملہ ہے کہ اب
کام یاران نکتہ رس کا نہیں
ہم کہاں سے چلے ہیں اور کہاں
کوئی اندازہ پیش و پس کا نہیں
ہو گئی اس گلے میں عمر تمام
پاس شعلے کو خار و خس کا نہیں
مجھ کو خود سے جدا نہ ہونے دو
بات یہ ہے میں اپنے بس کا نہیں
کیا لڑائی بھلا کہ ہم میں سے
کوئی بھی سینکڑوں برس کا نہیں
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.