Urdu Poetry Collection

Monday, December 30, 2019

چلو پھر سے مسکرائیں

گیت​

چلو پھر سے مسکرائیں
چلو پھر سے دل جلائیں
جو گزر گئی ہیں راتیں
اُنہیں پھر جگا کے لائیں
جو بسر گئی ہیں باتیں
اُنہیں یاد میں بُلائیں
چلو پھر سے دل لگائیں
چلو پھر سے مسکرائیں
کسی شہ نشیں پہ جھلکی
وہ دھنک کسی قبا کی
کسی رگ میں کسمسائی
وہ کسک کسی ادا کی
کوئی حرفِ بے مروّت
کسی کُنجِِ لب سے پھُوٹا
وہ چھنک کے شیشۂ دل
تہِ بام پھر سے ٹوٹا
یہ مِلن کی نامِلن کی
یہ لگن کی اور جلن کی
جو سہی ہیں وارداتیں
جو گُزر گئی ہیں راتیں
جو بِسر گئی ہیں باتیں
کوئی ان کی دھُن بنائیں
کوئی ان کا گیت گائیں
چلو پھر سے مسکرائیں
چلو پھر سے دل جلائیں

💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by following us via email.

No comments:

Post a Comment

Please don't enter any Spam link in the comment box.