سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں
نام کو بھی اب اِضطراب نہیں
خون کر دوں تیرے شباب کا میں
مجھ سا قاتل تیرا شباب نہیں
اِک کتابِ وجود ہے تو صحیح
شاید اُس میں دُعاء کا باب نہیں
تو جو پڑھتا ہے بو علی کی کتاب
کیا یہ الم کوئی کتاب نہیں
ہم کتابی سدا کے ہیں لیکن
حسبِ منشا کوئی کتاب نہیں
بھول جانا نہیں گناہ اُسے
یاد کرنا اُسے ثواب نہیں
پڑھ لیا اُس کی یاد کا نسخہ
اُس میں شہرت کا کوئی باب نہیں
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
نام کو بھی اب اِضطراب نہیں
خون کر دوں تیرے شباب کا میں
مجھ سا قاتل تیرا شباب نہیں
اِک کتابِ وجود ہے تو صحیح
شاید اُس میں دُعاء کا باب نہیں
تو جو پڑھتا ہے بو علی کی کتاب
کیا یہ الم کوئی کتاب نہیں
ہم کتابی سدا کے ہیں لیکن
حسبِ منشا کوئی کتاب نہیں
بھول جانا نہیں گناہ اُسے
یاد کرنا اُسے ثواب نہیں
پڑھ لیا اُس کی یاد کا نسخہ
اُس میں شہرت کا کوئی باب نہیں
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.