اب کسی سے میرا حساب نہیں
میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں
خون کے گھونٹ پی رہا ہوں میں
یہ میرا خون ہے ، شراب نہیں
میں سرابی ہوں میری آس نا چھین
تو میری آس ہے سراب نہیں
نوچ پھینکے لبوں سے میں نے سوال
طاقتِ شوخیِ جواب نہیں
اب تو پنجاب بھی نہیں پنجاب
اور خود جیسا اب دو آب نہیں
غم ابد کا نہیں ہے اُن کا ہے
اور اس کا کوئی حساب نہیں
بودش اک رَو ہے ایک رَو یعنی
اس کی فطرت میں انقلاب نہیں
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں
خون کے گھونٹ پی رہا ہوں میں
یہ میرا خون ہے ، شراب نہیں
میں سرابی ہوں میری آس نا چھین
تو میری آس ہے سراب نہیں
نوچ پھینکے لبوں سے میں نے سوال
طاقتِ شوخیِ جواب نہیں
اب تو پنجاب بھی نہیں پنجاب
اور خود جیسا اب دو آب نہیں
غم ابد کا نہیں ہے اُن کا ہے
اور اس کا کوئی حساب نہیں
بودش اک رَو ہے ایک رَو یعنی
اس کی فطرت میں انقلاب نہیں
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.