وہ جو تھا وہ کبھی ملا ہی نہیں
سو گریباں کبھی سلا ہی نہیں
اس سے ہر دم معاملہ ہے مگر
درمیاں کوئی سلسلہ ہی نہیں
بے ملے ہی بچھڑ گئے ہم تو
سو گلے ہیں کوئی گلہ ہی نہیں
چشم میگوں سے ہے مغاں نے کہا
مست کر دے مگر پلا ہی نہیں
تو جو ہے جان تو جو ہے جاناں
تو ہمیں آج تک ملا ہی نہیں
مست ہوں میں مہک سے اس گل کی
جو کسی باغ میں کھلا ہی نہیں
ہائے جونؔ اس کا وہ پیالۂ ناف
جام ایسا کوئی ملا ہی نہیں
تو ہے اک عمر سے فغاں پیشہ
ابھی سینہ ترا چھلا ہی نہیں؟
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
سو گریباں کبھی سلا ہی نہیں
اس سے ہر دم معاملہ ہے مگر
درمیاں کوئی سلسلہ ہی نہیں
بے ملے ہی بچھڑ گئے ہم تو
سو گلے ہیں کوئی گلہ ہی نہیں
چشم میگوں سے ہے مغاں نے کہا
مست کر دے مگر پلا ہی نہیں
تو جو ہے جان تو جو ہے جاناں
تو ہمیں آج تک ملا ہی نہیں
مست ہوں میں مہک سے اس گل کی
جو کسی باغ میں کھلا ہی نہیں
ہائے جونؔ اس کا وہ پیالۂ ناف
جام ایسا کوئی ملا ہی نہیں
تو ہے اک عمر سے فغاں پیشہ
ابھی سینہ ترا چھلا ہی نہیں؟
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.