Urdu Poetry Collection

Sunday, December 22, 2019

لمحہ بھر اپنا ہواؤں کو بنانے والے

لمحہ بھر اپنا ہواؤں کو بنانے والے
اب نا آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والے
کیا ملے گا تجھے بکھرے ھوۓ خوابوں کے سوا
ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے
سب نے پہنا تھا بڑے شوق سے کاغذ کا لباس
جس قدر لوگ تھے بارش میں نہانے والے
مر گئے ھم تو یہ کتبے پہ لکھا جائے گا
سو گئے آپ زمانے کو جگانے والے
درودیوار پہ حسرت سی برستی ھے قتیل،
جانے کس دیس گئے پیار نبھانے والے..

💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by following us via email.

No comments:

Post a Comment

Please don't enter any Spam link in the comment box.