یہ اور بات تیری گلی میں نا آئیں ہم
لیکن یہ کیا کہ تیرا شہر چھوڑ جائیں ہم
مدّت ہوئی ہے کوئے باطن کی طرف گئے
اوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم
بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا
تاریک راستوں پر کہیں کھو نا جائیں ہم
اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ کے لائیں ہم!۔۔
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.