غزل
بات بس سے نکل چلی ہے
دل کی حالت سنبھل چلی ہے
اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے
اب طبیعت بہل چلی ہے
اشک خونناب ہو چلے ہیں
غم کی رنگت بدل چلی ہے
یا یونہی، بجھ رہی ہیں شمعیں
یا شبِ ہجر ٹل چلی ہے
لاکھ پیغام ہو گئے ہیں
جب صبا ایک پل چلی ہے
جاو اب سو رہو ستارو
درد کی رات ڈھل چلی ہے
منٹگمری جیل 21۔ نومبر 53ء
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.