ترک شاعر ناظمِ حکمت کے افکار
جینے کے لیے مرنا
یہ کیسی سعادت ہے
مرنے کے لیے جینا
یہ کیسی حماقت ہے
اکیلے جیو
ایک شمشاد تن کی طرح
اور مل کر جیو
ایک بَن کی طرح
ہم نے امّید کے سہارے پر
ٹوٹ کر یوں ہی زندگی کی ہے
جس طرح تم سے عاشقی کی ہے
یہ کیسی سعادت ہے
مرنے کے لیے جینا
یہ کیسی حماقت ہے
اکیلے جیو
ایک شمشاد تن کی طرح
اور مل کر جیو
ایک بَن کی طرح
ہم نے امّید کے سہارے پر
ٹوٹ کر یوں ہی زندگی کی ہے
جس طرح تم سے عاشقی کی ہے
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.