گِلے سے باز آیا جا رہا ہے
سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے
نہیں مطلب کسی پہ طنز کرنا
ہنسی میں مسکرایا جا رہا ہے
وہاں اب میں کہاں! اب تو وہاں سے
مرا سامان لایا جا رہا ہے
عجب ہے ایک حالت سی ہوا میں
ہمیں جیسے گنوایا جا رہا ہے
اب اس کا نام بھی کب یاد ہو گا
جسے ہر دَم بُھلایا جا رہا ہے
چراغ اس طرح روشن کر رہا ہوں
کہ جیسے گھر جلایا جا رہا ہے
بَھلا تم کب چلے تھے یوں سنبھل کر
کہاں سے اُٹھ کے جایا جا رہا ہے
تو کیا اب نیند بھی آنے لگی ہے
تو بستر کیوں بِچھایا جا رہا ہے
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے
نہیں مطلب کسی پہ طنز کرنا
ہنسی میں مسکرایا جا رہا ہے
وہاں اب میں کہاں! اب تو وہاں سے
مرا سامان لایا جا رہا ہے
عجب ہے ایک حالت سی ہوا میں
ہمیں جیسے گنوایا جا رہا ہے
اب اس کا نام بھی کب یاد ہو گا
جسے ہر دَم بُھلایا جا رہا ہے
چراغ اس طرح روشن کر رہا ہوں
کہ جیسے گھر جلایا جا رہا ہے
بَھلا تم کب چلے تھے یوں سنبھل کر
کہاں سے اُٹھ کے جایا جا رہا ہے
تو کیا اب نیند بھی آنے لگی ہے
تو بستر کیوں بِچھایا جا رہا ہے
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.