دل گماں تھا گمانیاں تھے ہم
ہاں میاں داستانیاں تھے ہم
ہم سنے اور سنائے جاتے تھے
رات بھر کی کہانیاں تھے ہم
جانے ہم کس کی بود کا تھے ثبوت
جانے کس کی نشانیاں تھے ہم
چھوڑتے کیوں نہ ہم زمیں اپنی
آخرش آسمانیاں تھے ہم
ذرہ بھر بھی نہ تھی نمود اپنی
اور پھر بھی جہانیاں تھے ہم
ہم نہ تھے ایک آن کے بھی مگر
جاوداں جاودانیاں تھے ہم
روز اک رن تھا تیر و ترکش بن
تھے کمیں اور کمانیاں تھے ہم
ارغوانی تھا وہ پیالۂ ناف
ہم جو تھے ارغوانیاں تھے ہم
نار پستان تھی وہ قتالہ
اور ہوس درمیانیاں تھے ہم
ناگہاں تھی اک آن آن کہ تھی
ہم جو تھے ناگہانیاں تھے ہم
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
ہاں میاں داستانیاں تھے ہم
ہم سنے اور سنائے جاتے تھے
رات بھر کی کہانیاں تھے ہم
جانے ہم کس کی بود کا تھے ثبوت
جانے کس کی نشانیاں تھے ہم
چھوڑتے کیوں نہ ہم زمیں اپنی
آخرش آسمانیاں تھے ہم
ذرہ بھر بھی نہ تھی نمود اپنی
اور پھر بھی جہانیاں تھے ہم
ہم نہ تھے ایک آن کے بھی مگر
جاوداں جاودانیاں تھے ہم
روز اک رن تھا تیر و ترکش بن
تھے کمیں اور کمانیاں تھے ہم
ارغوانی تھا وہ پیالۂ ناف
ہم جو تھے ارغوانیاں تھے ہم
نار پستان تھی وہ قتالہ
اور ہوس درمیانیاں تھے ہم
ناگہاں تھی اک آن آن کہ تھی
ہم جو تھے ناگہانیاں تھے ہم
گمان -جون ایلیا(Jun Elia)
💌 Enjoyed this post? Never miss out on future posts by
following us via email.
No comments:
Post a Comment
Please don't enter any Spam link in the comment box.